سائل نے نادرا اہلکار کا گریبان پکڑ لیا ، انتہائی حیرت انگیز حقائق،

راجن پور( بیوررپورٹ) گزشتہ دنوں راجن پور نادرا آ فس کے اہلکار شکیل ضیاء نے اللہ رکھا دریشک کے بیٹے کا نام غلط لکھ دیا اس پر اللہ رکھا نے اس کی توجہ بھی مبذول کی کہ اسکے بیٹے کا نام بکر نہیں بلکہ ابوبکر ہے ، اس پر فارم لیتے ہوئے شکیل ضیاء نے کہا کہ ہوجائے گا ، لیکن جب اللہ رکھا دریشک ب فارم اٹھانے گیا تو پتہ چلا کہ اس کے بیٹے کا نام ابوبکر کی بجائے بکر لکھ دیا ہے اس پر شکیل ضیاء نے بجائے معذرت کے زور زور سے چلانے لگا کہ ہم تمہارے باپ کے نوکر ہیں ، اللّٰہ رکھا دریشک نے شکیل ضیاء کا گریبان پکڑ لیا اور ب فارم اس کو واپس دے دیا اتنے میں سارا سٹاف اکھٹا ہوگیا اور دونوں کو پکڑا گیااور مزید لڑائی سے روک دیا گیا ،

ایک والد کا غصہ کرنا حق بنتا ہے اس کے بیٹے کا نام تبدیل کر دیا اور معذرت کرنے کی بجائے الٹا سائل کو دھمکانا کہاں کی عقل مندی ہے ، ایک بات سمجھ میں آتی کہ نادرا ہیڈ کوارٹر نے اس لیے آفس انچارج کے لیے ایم بی اے ہونے کی شرط رکھی ہوئی ہے کہ کم از کم سائل کی پریشانی کو محسوس کرے نہ کہ اپنی غلطی کو تسلیم کرنے کی بجائے سائل پر غصہ شروع کر دے ،

بعد ازاں جب سائل اللہ رکھا دریشک کے بارے میں پتہ چلا کہ وہ اس ب فارم کو لیکر ایف آ ئی اے ملتان جا رہا ہے اس پر شکیل ضیاء نے اپنے ہم پیالہ ہم نوالہ دوستوں کے ذریعے نادرا اہلکاروں نے اللہ رکھا کے گھر جاکر معافی مانگ لی ، اللہ رکھا دریشک کے والد حاجی دادو خان دریشک اچھی شہرت کے حامل اور سردار نصراللہ خان دریشک کے معتمدِ خاص ہیں چنانچہ بلوچ روایات کے مطابق گھر آ کر معافی مانگنے والے کو معاف کردیا جاتا اس لیے شکیل ضیاء کی حرکت کی معافی دے دی گئی

سوال یہ ہے کہ معتمدِ خاص شخصیات کی اولادوں کے ساتھ اگر ایسا سلوک ہو رہا ہے تو عام ،غریب اور بھولی بھالی عوام کے ساتھ کیا ہو رہا ہوگا ؟

رابطہ نمبر : 03336444089

ہماری خبر پر نوٹس والے اداروں سے گزارش ہے کہ یہ ابتدائی معلومات اور تجزیہ کے طور پر اطلاع فراہم کرنا ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں ، اس پر ایکشن لینے سے پہلے ہمارے قوانین اور پرائیوسی پالیسی کو ضرور پڑھ لیں ،مزید معلومات کے لیےدیئے گئے نمبر پر رابطہ کریں ، شکریہ

اپنا تبصرہ بھیجیں