صحافیوں کے مسائل کون سنے گا؟؟؟

previous arrow
next arrow
Slider

تحریر۔ ملک محمد رفیع کھوکھر
ضلعی صدر PJA راجن پور۔۔۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ صحافت ایک مقدس پیشہ ہے اس کے ساتھ آج کیا سلوک ہو رہاہے
شاید ہم یہ بات جاننے کے باوجود کہ جو کام ہم نے ذمہ لیا یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے پھر بھی ڈرتے نہیں۔ اسوقت پاکستان میں اگر کوئی سب سے غیر محفوظ ہیں تو صحافی ہیں۔سب کی خبر دیتے ہیں لیکن ان کی خبر دینے والا اور لینے والا کوئی نہیں ہوتا۔رپورٹر سے لے کر کالم نگار تک ،صحافتی شعبے کا ہر فرد دوسروں کے مسائل کو تو بیان کرتا ہے ،حکومت و اپوزیشن سے اس کے رابطے لیکن اپنے مسائل کے حل کے لئے اسے کوئی پلیٹ فارم نہیں ملتا۔قلم اٹھائے سارا سارا دن ،کیسا بھی موسم ہو،کیسے بھی حالات ہو،پولیس کی طرف سے لاٹھی چارج ہو یا سیاسی جماعتوں کی آپس میں لڑائیاں،صحافی ہر کہیں اپنا فرض نبھاتا نظر آئے گا لیکن اگر اسی صحافی کو کچھ ہو جاتا ہے تو سب بھول جائیں گے کہ یہ بھی ہمارے ہی معاشرے کا ایک فرد تھا۔پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق نے سال 2014ء کی رپورٹ میں بتایا کہ صحافیوں کے بین الاقوامی اتحاد نے پاکستان کو میڈیا کے لئے خطرناک ترین ملک قراردیا اور پاکستان کئی سالوں سے میڈیا کے لئے دنیا کا خطرناک ترین ملک قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان میں گزشتہ سال میں درجنوں صحافی اور میڈیا کے ملازمین جاں بحق ہوئے جس سے اظہار رائے کی آزادی کے تصور کی نفی ظاہر ہوتی ہے۔ ان میں لاڑکانہ کے شان ڈاہر گھمبٹ، خیر پور کے جیون ارائیں، کوئٹہ کے ارشاد مستوی ،اوستہ محمد جعفر آباد کے افضل خواجہ، حافظ آباد کے یعقوب شہزاد اور ندیم حیدر میانوالی کے شہزاد اقبال اور ایبٹ آباد کے ابرار تنولی شامل ہیں۔گزشتہ سال کے مارے جانے والے میڈیا کے ملازمین کی تعداد چھ بتائی گئی ہے جن میں لاہور کے محمد مصطفیٰ ، کوئٹہ کے محمد عبدالرسول اور محمد یونس، کراچی کے وقار عزیز خاں، خالد اشرف ارائیں شامل ہیں۔ پاکستان میں سترہ جنوری کو کراچی اور 18 اگست کو کوئٹہ میں ہونے والے واقعہ کو میڈیا پر حملوں کی بدترین مثالیں قرار دیا گیا۔ کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد میں ایکسپریس کی ڈیجیٹل سیٹلائٹ نیوز گیدرنگ (ڈی ایس این جی) وین پر حملے میں ایکسپریس نیوز کے تین ملازمین مارے گئے۔ 28 اگست کو نامعلوم حملہ آوروں نے اے آر وائی نیوز کے ارشاد مستوئی کے دفتر میں داخل ہو کر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں اشارد مستوئی کے علاوہ رپورٹر عبدالرسول اور اکائونٹنٹ یونس خاں جاں بحق ہوگئے۔ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران بلوچستان میں 40 سے زائد صحافی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن چکے ہیں”میڈیا واچ ڈاگ” اور رپورٹرز ود آئوٹ بارڈرز کی رپورٹس میں بھی پاکستان میں صحافیوں کا بہت برا حال ہے۔ دوسرا اہم مسئلہ صحافیوں کے بچوں کے مستقبل اور تعلیم کا ہے۔
پاکستان کے سرکاری سکول و کالجز کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سکول و کالجز میں بھی صحافیوں کے بچوں کی فیسیں معاف ہونی چاہیے ہمارا مطالبہ ہے کہ تمام جرنلسٹس جو صبح شام اور ساری ساری رات معاشرے کے مسائل کو ہائی لائٹ کرنے کی کوششوں میں بلامعاوضہ لگے رہتے ہیں ناسکون سے سو پاتے ہیں نا چھٹی ہوتی ہے نا اپنی فیملیز کو پورا وقت دے پاتے ہیں اور اپنے اخبارات اور ٹی وی چینلز سے بھی کسی قسم کی کوئی مراعات حاصل نہیں کرپاتے ان کو پورےپاکستان کے صحافیوں کو ان حالات میں مقامی حکومت یا اداروں کا سپورٹ کرنا بے حد ضروری ہوتا جارہا ہے کیونکہ اگر ان کو سپورٹ ناکیا جائے گا تو یہ اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلوانے سے محروم رہے جائیں گے اور صرف پروٹوکول یا چائے کی پیالی یا کھانا کبھی کھلا دینے سے صحافیوں کے مسائل ختم نہیں ہوجاتے ہیں ہماری ضلعی انتظامیہ اور چیئرمینوں اور پنجاب و وفاقی حکومت پاکستان سے اپیل ہے کہ ایسا قانون یا آرڈر جاری کیا جائے جس میں صحافیوں کے بچوں کو فری تعلیم حاصل کرنے کا حکم جاری کیا جاسکے تاکہ سارے پاکستان کے مسائل کو اجاگر کرنے والے ان صحآفیوں کے اپنے مسائل بھی کسی حد تک حل ہوسکیں۔

اب ہونا تو یہ چاہئے کہ صحافتی تنظیمیں ضابطہ اخلاق طے کریں، ایک صحافی پر حملہ کو پوری صحافتی برادری پر حملہ تصور کیا جائے، میڈیا ہائوسز کی سیکورٹی کا انتظام ہونا چاہئے۔ صحافیوں پر تشدد کے ماحول کا جائزہ لینا ہوگا کہ کیوں صحافی کی زندگی خطرہ میں ہے۔ ہم سالہا سال سے جبر کا شکار ہیں۔ ایک صحافی سیاسی، معاشی اور معاشرتی جبر کا شکار ہوتا ہے۔ معاشرے کی سوچ کو تبدیل کرنا ہوگا۔ ملک میں صحافیوں کا قتل ہوا، انہیں کوڑے مارے گئے اور برطرفیاں کی گئیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے میں برداشت کا کلچر پروان چڑھایا جائے۔ اس سلسلے میں میڈیا اور معاشرے کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں تاکہ صحافی کسی تشدد کا شکار نہ ہوں۔

جب تک صحافیوں کو معاشی تحفظ حاصل نہیں ہوگا وہ اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکتے۔ اخبارات کی ورکنگ کنڈیشن کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ صحافی نوکریوں کو دائو پر لگانے پر مجبور نہ ہوں۔ ہمارے پیشہ میں مخاصمت ہے، ایک رپورٹر یا چینل پر حملہ ہوتا ہے تو دوسرا چینل یا اخبار اس کی خبر شائع یا نشر نہیں کرتا۔ ہمیں اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور صحافتی تنظیموں کو ضابطہ اخلاق طے کرتے ہوئے یہ پیغام دینا چاہئے کہ ایک صحافی پر حملہ پوری صحافت پر حملہ تصور ہوگا۔ کیمرہ اور دیگر میڈیا کے سامان کو اہمیت حاصل ہوتی ہے اور یہ آلات انشورڈ ہوتے ہیں لیکن کیمرہ مین اور صحافی کی انشورنس نہیں ہوتی۔ میڈیا ورکرز کے لئے انشورنس میکنزم ہونا چاہئے۔ میڈیا ہاوسز میں کام کرنے والے کارکنوں کی ہیلتھ انشورنس ہونی چاہئے اور کسی ناگہانی حادثہ کی صورت میں فوری معاوضہ کی ادائیگی ہونی چاہئے۔ سینئر لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ دیکھیں کہ صحافی کیا خبر دے رہا ہے اور اس کا مواد کیا ہے۔ قابل اعتراض باتوں کو ایڈیٹ کیا جانا چاہئے۔ ریاست کی ذمہ داری شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہوتا ہے، ہمیں اپنا کلچر تبدیل کرنا ہوگا کہ لوگ کسی ناگہانی صورتحال میں صحافی کے ساتھ کھڑے ہوں۔ سب سے اہم کردار صحافی کا اپنا ہے، اگر وہ لوگوں کی محرومیوں کی بات کرتا ہے تو اسے اپنے مسائل سے بھی معاشرے کو آگاہ کرنا چاہئے۔ اگر صحافی معاشرے کے سامنے اپنے مسائل رکھے گا تو معاشرہ اس کا ساتھ دے گا۔ہر صحافی یہ چاہتا ہے کہ غریب، بے بس، بے کس، بے یارو مدگار لوگوں کے مسائل کو اپنی قلم کے ذریعہ ارباب اختیار تک پہنچائے اور اس پر عمل درآمد کے لیئے کوشش کرے ۔ اس میں انہی لوگوں کو شامل ہونا چاہئے تھا جن میں یہ جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا۔ وہ مشکل وقت تھا دور دراز سے مسائل کو تلاش کرکے صحافی خود مسائل کا شکار ہو جاتے تھے لیکن ان کا جذبہ کم نہیں ہوتا تھا

جب وہ دور تھا کہ لوگ صحافت کو مسیحا گردانتے اور اپنے عظیم قائد کی جگہ دیتے تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ کچھ خود غرض لوگ شامل ہونا شروع ہوگئے اور کم ظرف مفاد پرست ارباب اختیار کا ساتھ دینے لگے۔ ستم ظریفی یہ تھی کہ اس میں وہ لوگ بھی شامل ہوگئے جنہوں نے نام نہاد میڈیا گروپس بنا لیئے اور اپنے ذاتی مسائل اور اپنی ذاتی جاگیریں جائیدادیں بنا شروع کر دیں اور اس مقدس پیشہ کو فروخت کرنا شروع کردیا اور حالت یہ ہے کہ دن رات محنت کرنے والے قریہ قریہ جاکر ان پیشہ ور میڈیا گروپس کے لیئے خبریں اکھٹی کرنے والے بے لوث رپورٹر نمائندگان کی قدر جو انہیں ملنا چاہیئے تھی خاک میں مل گئی اور لوگوں نے ان پر اعتماد کرنا ختم کردیا جبکہ یہ وہ لوگ ہیں جو بغیر لالچ کے اپنی جان کی قربانی تک سے دریغ نہیں کرتے اور آخری سٹیج تک جا کر کوریج کرتے ہیں ان کی خوشی اس وقت خاک میں مل جاتی ہے جب چند نام نہاد میڈیا مالکان ان کی اس محنت اور لگن کو پس بشت ڈال کر ذاتی مفاد حاصل کرتے ہیں

ہمارے مشن میں ایک ہی بات شامل ہے کہ کس طرح ان بے لوث بے باک نڈر نامہ نگار نمائندگان کو ان کا جائز حق دلایا جائے اور پھر سے ایک پر وقار صحافت کو مقبولیت سے ہمکنار کرایا جائے اور ان محنتی نمائندگی کی عزت و وقار اسی طرح واپس دلائی جائے جو ان کا حق ہے ان نام نہاد لٹیروں کے خلاف بھی جہاد کیا جائے جو ان کی محنت سے تیار کردہ حقائق پر مبنی رپورٹس کو پس پشت ڈال کر مظلوم کو چھوڑ کر ظالم کے ساتھ مل جاتے ہیں اور اپنے مفادات مضبوط کرتے ہیں۔

ان کی یہ کوشش اس وقت کامیاب ہوتی نظر آرہی ہے کہ اس میں وہی محنتی بے لوث اور جان کی پرواہ نا کرنے والے ملکی مفادات کے پاسدار عوامی فلاح کے خواہشمند نمائندگان شامل ہو رہے ہیں پاکستان جرنلسٹس ایسوسی ایشن بھی صحافیوں کا کھویا ہوا وقار عنقریب حاصل کرلے گا اور جناب میاں اشتیاق علی مرکزی چیئرمین کی محنت و کامیابی سے یہ تنظیم کامیابی سے ہمکنار ہوگی وہ دن رات محنت کرکے پاکستان کی گلی گلی قریہ قریہ میں جاکر اپنا یہی پیغام لیکر خود جارہے ہیں اور وہ دن دور نہیں جب ایک حقیقی صحافت پھر سے بیدار ہوجائے گی اور یہ گروپ اپنی پاور سے ارباب اختیار نام نہاد میڈیا گروپس اپنا قبلہ درست کر نے پر مجبور کر دیگا،

رابطہ نمبر : 03336444089

ہماری خبر پر نوٹس والے اداروں سے گزارش ہے کہ یہ ابتدائی معلومات اور تجزیہ کے طور پر اطلاع فراہم کرنا ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں ، اس پر ایکشن لینے سے پہلے ہمارے قوانین اور پرائیوسی پالیسی کو ضرور پڑھ لیں ،مزید معلومات کے لیےدیئے گئے نمبر پر رابطہ کریں ، شکریہ

اپنا تبصرہ بھیجیں