راجن پور کی صحافت کا سردار! سردارقدیر خان ،

تحریر و تحقیق : امجد ملک ( ادنیٰ شاگرد)

راجن پور کی تحصیل جام پور کے نواحی علاقے داجل سے تعلق رکھنے والے سردار قدیر خان نے ایک معمار قوم کی حیثیت سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا لیکن روح کو سکون نہ ملا کیونکہ ان کے اندر اپنے خطہ ارض کے لیے کچھ کر گزرنے کا لاوا بحر بیکراں کی شکل اختیار کر رہا تھا چنانچہ انہوں نے صحافت میں قدم رکھا اور اپنے علاقائی مسائل پر لکھنا شروع کیا اس وقت کے علاقائی اخبارات کے ذریعے اس خطہ ارض پر مسلط وڈیروں اور بھوتاروں کے مظالم اخبار کی سرخیوں میں پہلی مرتبہ پڑھنے کو ملے ،

اور اس وقت کے اعلیٰ عہدے دار بیوروکریٹ بھی ان کی قلم سے نہ بچ سکے ، بہت جلد وہ صحافت کے میدان میں سرفہرست ناموں میں شامل ہوگئے اس وقت کے وڈیرے اور بھوتاروں نے مقامی اخبارات کے مالکان کو نشانہ بنایا تاکہ وہ اس مرد مجاہد کے قلم کو روک سکے لیکن اندر کے طوفان نے کسی کی نہ سنی اور اپنے پیارے شاگرد اور منہ بولے بیٹے اختر ملک کے ہمراہ لاہور جاکر کسی اخبار میں کام کرنے کا فیصلہ کیا ، تاکہ ان وڈیروں اور بھوتاروں کے صوبائی اسمبلیوں میں پہنچنے کے بعد ان سے اپنے علاقے راجن پور ضلع کے لیے احساس دلایا جائے ،

لاہور روانہ ہوئے تو کوئی پلان کوئی سہارا نہیں ، صرف اور صرف اللہ اور اس کے حبیب پر نظریں جمائے مختصر سا رخت سفر ساتھ لیکر چل پڑے ، لاہور پہنچ کر سب سے پہلے والی لاہور حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کے دربار پر حاضری دی اور مختلف اخباروں کے دفاتر کے چکر لگائے ایک اخبار میں ملازمت کا آغاز کیا اور اس میں وہ لب و لہجہ جارہانہ انداز بیاں اور راجن پور کے گودے بھوتاروں پر تابڑ توڑ حملے ، ان کے مظالم اوراپنے علاقہ کی محرومیوں کے احوال ایوان بالا تک پہنچائے،بالاخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا اخبار مالکان نے ایک ایک کرکے جواب دینا شروع کردیا ،

پھر ایک اخبار میں بطور ایڈیٹر انچیف کے طور پر اپنی تمام تر فنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کا موقع ملا ، چنانچہ لاہور کی صحافت کے افک پرنمایاں ستارے کی طرح ابھر کر سامنے آ ئے، اختر ملک ان تمام تر مشکالات میں ثابت قدم رہے اور ماتھے پر کبھی ایک شکن تک نہ دکھایا اور اپنی منزل کیطرف چلتے رہے ، کہ ایک دن ایسا آ یا کہ جس نے تاریخ رقم کر ڈالی اور اس اخبار کے مالک نے صبح سیکورٹی گارڈوں کے ذریعے کہلوایا کہ ان کا آ نا دفتر میں بند ہے اپنا بوریا بستر سنبھالو اور چلتے بنو ،

بس یہی وہ لمحہ تھا کہ جس میں راجن پور کے باسیوں کی تقدیر نے کروٹ لی اور سردار قدیر خان نے اختر ملک سے کہا کہ اب ہم اپنا اخبار کھولیں گے ، اختر ملک نے ہمیشہ کی طرح لبیک کہا اور صرف دس دنوں میں روزنامہ صاحب جی کی ضروری دستاویزات مکمل کرلیے گئے اور گیارویں دن اخبار نکالا گیا ،

اور اللہ تعالیٰ پر توکل رکھنے والے مرد مومن نے اسباب کی فکر کیے بغیر اپنا اخبار پرنٹ کیا تو اختر ملک نے کہا سردار صاحب کیا یہ ہماری منزل ہے سردار قدیر خان نے سر ہلایا اور کہا کہ اختر بابا ہماری منزل ابھی دور ہے ، یہ تو صرف سنگ میل ہے ، صاحب جی نے گودے بھوتاروں کے خلاف جیسے اعلان جنگ شروع کردیا، اس کی ٹاپ سٹوریز میں

“منی بدنام ہوئی ظالماں تیرے لیے”

مقامی تمن سردار کے خلاف بریکنگ سٹوری

” ہن مل ڈکھاؤ ، گودے بھوتارو”

” نکے تھانیدار دے وڈے ظلم ”

“کچہ شاہجمال روجھان میں چھوٹو گینگ ”

” ہر جگہ کربلا ہر دن عاشورہ”

سردار قدیر خان نے راجن پور کی حالت بہتر کرنے کے لیے مقامی انتظامیہ ، ایم این اے اور ایم پی اے کے ساتھ ہمسایہ اضلاع میں جاکر ایم پی اے اور ایم این اے سے ملاقاتیں کیں اور ان کو راجن پور آ نے کی دعوت دی ،

گزشتہ دنوں مخدوم احمد محمود کی آ مد پر انہوں نے خصوصی ملاقات کی اور ان کو راجن پور آ کر الیکشن لڑنے کے لیے دعوت دی ،انہوں نے وعدہ کیا کہ میں راجن پور ضرور آؤں گا ،

جب ان سے راجن پور آمد کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے جواب میں کہا کہ راجن پور میں اپنے قبیلہ سے وعدہ کیا تھا کہ ان کا ایک ہیڈ کوارٹر ہوگا جہاں پر بیٹھ کر سب مل کر کام کریں گے ، لاہور سے زیادہ راجن پور کو فوکس نہیں کر رہے تھے اب ہماری پورے راجن پور کے جملہ مسائل پر نظر ہے ، یہاں ہمارے نمائندگان کے ذاتی مسائل پر بھی توجہ دے رہے ہیں ، اور سب سے بڑھ کر اپنے قبیلے کی تربیتی نشستوں سے نمائندگان کی تعلیم و تربیت کر رہے ہیں ،

الہیٰ تا با ابد آ ستان یار رہے

آ سرا ہےغریبوں کا برقرار رہے

رابطہ نمبر : 03336444089

ہماری خبر پر نوٹس والے اداروں سے گزارش ہے کہ یہ ابتدائی معلومات اور تجزیہ کے طور پر اطلاع فراہم کرنا ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں ، اس پر ایکشن لینے سے پہلے ہمارے قوانین اور پرائیوسی پالیسی کو ضرور پڑھ لیں ،مزید معلومات کے لیےدیئے گئے نمبر پر رابطہ کریں ، شکریہ

اپنا تبصرہ بھیجیں