صوبہ جنوبی پنجاب کا نعرہ ، سیاسی اکھاڑے اور ہم۔۔۔

تحریر: ملک محمد رفیع شاکر

جنوبی پنجاب صوبہ ہر جنوبی پنجاب میں بسنے والے چھوٹے بڑے امیر غریب سیاستدان سول سوسائٹی وکلاء صحافیوں اور دوسرے شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے ہر انسان کی آواز بن چکا ہے اور جنوبی پنجاب میں یہ نعرہ جیت کا فیصلہ بھی کرے گا ہم نے بھی محسوس کیا ہے کہ ہمارے سیاستدان منت سماجتیں کرتے ہیں علاقائی فنڈ و ترقی کے لیے مگر سالوں ان کو وزیراعظم وزیراعلیٰ سے ٹائم ہی نہیں ملتا ہے دوسری طرف بیوروکریسی روڑے اٹکاتی رہتی ہے اب یہ بات سیاستدان بھی جان چکے ہیں اور عوام کی ڈیمانڈ کی وجہ سے بھی وہ لوگ اس طرف آچکے ہیں اوریہ اچھی بات ہے بری بات نہیں ہے عمران خان بھی انتظامی لحاظ سے کئی صوبوں کا عندیہ دے چکے ہیں اور درحقیقت ضرورت بھی ہے کیونکہ جتنے صوبہ چھوٹے ہوں گے اور زیادہ ہوں گے وزیراعلیٰ اور دیگر اہم عہدے بھی اتنے بڑھ جائیں گے جس سے انتظامی امور چلانے میں آسانی اور بہتری آئے گی ہم سب کو بھی۔ اس چیز کو سپورٹ کرنا چاہیے اس میں کوئی بری بات نہیں ہے کیونکہ ماضی گواہ ہے کہ جنوبی پنجاب کو نظر انداز کیا گیا ہر لحاظ سے اور بہتر انتظامی امور بھی نہیں ہیں۔ کچھ لوگ یہ بھی کہے رہے ہےں کہ یہ تو وہی لوگ ہیں جنہوں نے ستر سالوں میں کوئی ترقی نہیں ہونے دی بلکہ رکاوٹ بنے رہے تو اب یہ حکمران بن کر یا صوبہ بناکر کیا کر لیں گے یہ ان کا سیاسی پینترہ ہے جو صرف ووٹ حاصل کرنے عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے کھیلا جارہا ہے ۔ جیسے سندھ کارڈ مہاجر کارڈ آستعمال کیے جاتے رہے ہیں ۔ میں ان سے یہی کہوں گا کہ گو اس میں چند افراد ایسے ہونگے مگر سارے ایسے نہیں ہیں ۔ جب کوئی سیاستدان اپنے جلسے جلوسوں میں بار بار ایک ہی نعرہ لگائیں گے تو ان کو اس کی پاسداری بھی کرنی پڑے گی ۔۔ دوسری بات یہ زور لگائیں یا نا لگائیں پی ٹی آئی پہلے ہی یہ پالیسی دے چکی ہے نئے صوبے بنائے جائیں گے تیسری بات ان میں جو بڑے بوڑھے ہیں وہ بھی اب اپنی نسلوں کو حکومت میں دیکھنا چاہتے ہیں تو اس طرح کے کام کرنے پڑیں گے نہیں تو پھر سیاست ان کے ہاتھ سے نکل جائے گی اب سیاست صرف عوامی خدمت کام کام کام کرنے والے کے پاس ہی جاتی ہوئی نظر آرہی ہے جس میں جمشید دستی جیسے لوگ مثال ہیں اب میڈیا کا۔دور ہے کال کوٹھڑیوں غلامیوں جھوٹے پرچوں چوریوں کی سیاست کا دور نہیں رہا اب صرف کارکردگی کی بنیاد پر ہی کوئی آگے آسکے گا خالی زبانی جمع خرچ سے نہیں بہرحال ہم کو جنوبی پنجاب صوبے کو سپورٹ کرنا چاہیے اس میں جو اس چیز کو سپورٹ کرے اس کی حمایت ضروری ہے اب یہ وقت کی ضرورت اور ہماری مجبوری ہے اگر بات چل نکلی ہے تو دور تلک جائے گی باقی ابھی بھی بہت وقت ہے جو آپ سب کو اچھا امیدوار نظر آئے اس کو ہی سپورٹ کریں مگر اس کاز کو آگے آنا چاہیے صوبہ بننا چاہیے کیونکہ تخت لاہور کی مزید غلامی نہیں ہوسکتی اپنوں کی غلامی کرلیں گے آج نہیں تو کل آخر اگر فنڈز ہونگے تو کام بھی ہو ہی جائیں گے باقی یہ بات درست ہے کہ اچھے اور نوجوانوں اور اچھی سوچ کے حامل لوگوں کو آگے لانا چاہیے عام لوگوں کو نا کہ ظالم۔جاگیردار صنعت کار تاجر کو جن کو صرف پیسے سے پیار ہوتا ہے انسانوں سے نہیں

رابطہ نمبر : 03336444089

ہماری خبر پر نوٹس والے اداروں سے گزارش ہے کہ یہ ابتدائی معلومات اور تجزیہ کے طور پر اطلاع فراہم کرنا ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں ، اس پر ایکشن لینے سے پہلے ہمارے قوانین اور پرائیوسی پالیسی کو ضرور پڑھ لیں ،مزید معلومات کے لیےدیئے گئے نمبر پر رابطہ کریں ، شکریہ

اپنا تبصرہ بھیجیں