پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ حوا کی بیٹی کو انصاف صرف سات دنوں میں ملا،

زینب قاتل مکمل عدالتی کاروائی
23 جنوری کو زینب کے قاتل کو قصور قبرستان سے گرفتار کیا گیا
24 جنوری کو قاتل کو انسداددہشت گردی کی عدالت نمبر 1 میں حصول ریمانڈ کےلیے پیش کیا گیا
انسداددہشت دہشت گردی کے ایڈمن جج سجاد احمد نے کیس کی سماعت کی
عدالت نے ملزم کو 14 روزہ ریمانڈ پر سی ٹی ڈی کے حوالے کیا
24 تاریخ کو ملزم کا پہلا ویڈیو بیان منظرعام پر آیا
ملزم نے ویڈیو میں بتایا کہ وہ بچی کو کیسے لےکر گیا اور کیا کیا
25 تاریخ کو لاہور ہائیکورٹ کیجانب سے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کا حکم دیا گیا
عدالتی احکامات کے مطابق 7 دن کے اندر ٹرائل مکمل کرنے کا حکم دیا گیا
25 جنوری کو زینب کے والد کیجانب سے آفتاب باجواہ نے کیس لڑنے کا اعلان کیا
آفتاب باجواہ نے زینب کیس کی فیس 10 روپے مقرر کی
26 جنوری کو زینب کے قاتل لیک ہونے پر سی آئی اے کے اہلکاروں کےخلاف مقدمہ درج ہوا
28 جنوری کو زینب قتل کیس کی سماعت سپریم کورٹ رجسٹری میں ہوئی
عدالت نے پراسکیوٹر جنرل کو زینب کیس میں عدالتی معاونت کا حکم دیا
عدالت نے زینب کے والد اور اسکے وکیل کو کوئی بھی بیان میڈیا پر دینے سے روک دیا
سپریم کورٹ نےقصور میں تعینات ڈیس ایس پی پی او ایس ایچ او سے متعلق رپورٹ طلب کی
سپریم کورٹ نے زینب کے والد کو اپنا بیان ریکارڈ کروانے کا حکم دیا
سپریم کورٹ میں اس موقعہ پر زینب سمیت قتل ہونے والی نو بچیوں کے ورثا بھی پیش ہوئے
چیف جسٹس سے تمام لواحقین سے افسوس کا اظہار کیا
جی آئی ٹی کے سربراہ نے عدالت میں اپنی رپورٹ جمع کروائی۔۔
ملزم عمران کو 6 فروری کو مزید 8 بچیوں کے قتل کے الزام میں ریمانڈ کےلیے پیش کیا گیا
انسداددہشت دہشت گردی عدالت نے ملزم کو 3 دن کے ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا
زینب کے والد کیجانب سے آفتاب باجوہ نے ریکارڈ کے حصول کےلیے 7 فروری کو درخواست دائر کی گئی
درخواست میں سی سی ٹی وی فوٹیج، ڈی این اے ٹیسٹ ،فرانزک ٹیسٹ اور ریکارڈ مہیا کرنے کی استدعا کی گئی
انسداد دہشتگردی کی عدالت نے زینب کے والد کے وکیل کی استدعا مسترد کردی
ہائی پروفائل کیس ہونے کی بنا پر آپکو کوئی بھی ریکارڈ فراہم نہیں کیا جاسکتا، عدالت
7 فروری کو عمران کو 14 روزہ ریمانڈ ختم ہونے پر دوبارہ پیش کیا گیا
پراسکیوشن نے مزید 2 دن کے ریمانڈ کی استدعا کی
عدالت نے تفتیش مکمل نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا
14 دن میں کیا گیا، اگر ان دنوں میں کچھ نہیں کر سکے تو اب کیا کریں گے، عدالت
ملزم کیخاف تفتیش آخری مراحل میں ہے صرف 2 دن دئیے جائیں، استدعا
9 فروری کو ملزم کو 2 دن کے ریمانڈ کے بعد پیش کیا گیا
ملزم کیخلاف تفتیش مکمل ہونے پر پراسکیوشن نے چالان عدالت میں جمع کروایا
عدالت نے پراسکیوٹر عبدالرف وٹو سے استفسار کیا کہ کیا ثبوت اکٹھے کیے
ملزم کیخلاف دوران تفتیش 6 ثبوت اکٹھے کیے گیے، پراسکیوٹر عبدالرف
1) ملزم کا ڈی این نے مییچ ہوا،
2) ملزم کا ڈی این اے مثبت آیا
3) 4 سی سی ٹی وی فوٹیجز میں ملزم کی نشاندہی ہوئی
4) ملزم کی فوٹو کمپریژن سے نشاندہی کی گئی
5) ملزم سے کپٹرے، جیکٹ اور ٹوپی برآمد کی گئی
6) ملزم کیخلاف 56 لوگوں کےبیانات قلمبند کروائے گیے

کیا ملزم نے اعتراف جرم کیا، عدالت کا پراسکیوٹر سے استفسار

پراسکیوٹر نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے انکار کیا
ملزم کیجانب سے مہر شکیل نے عدالت میں وکالت نامہ جمع کروایا
ملزم کے وکیل نے چالان کی کاپی دینے کی استدعا کی
عدالت نے ملزم کو زینب کے قتل میں ملزم کا ٹرائل اور 8 بچیوں کے قتل میں جوڈیشل کرنے کا حکم دیا
9 فروری کو ملزم کے وکیل کو چالان کی کاپی فراہم کی گئی
10 فروری کو سپریم کورٹ نے ملزم کا ٹرائل شروع ہونے پر کیس نمٹا 50
12 جنوری سے کوٹ لکھپت جیل میں ٹرائل کا آغاز کیا گیا۔

رابطہ نمبر : 03336444089

ہماری خبر پر نوٹس والے اداروں سے گزارش ہے کہ یہ ابتدائی معلومات اور تجزیہ کے طور پر اطلاع فراہم کرنا ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں ، اس پر ایکشن لینے سے پہلے ہمارے قوانین اور پرائیوسی پالیسی کو ضرور پڑھ لیں ،مزید معلومات کے لیےدیئے گئے نمبر پر رابطہ کریں ، شکریہ

اپنا تبصرہ بھیجیں