راجن پور میں رپورٹنگ کے مسائل ، کنور فہیم کی زبانی

تحریر : امجد ملک

previous arrow
next arrow
ArrowArrow
Slider

کنور فہیم مختلف مقامات پر کوریج کرتے ہوئے ،

دورحاضر میں میڈیا کے وجود سے انکار ناممکن ہے راجن پور پنجاب کا آخری ضلع ہونے کی حیثیت سے ایک پسماندہ ضلع ہے ،کوئی قدرتی آفت ہو یا کسی ظالم کا ظلم سب سے پہلے پہنچنے والےچند نیوز رپورٹرزمیں شامل کنور فہیم احمد صف اول کے رپورٹر ہیں ، انہوں نے اپنے پروفیشنل رپورٹنگ کا آغاز 2007 ء میں حق ٹی وی سے کیا ، 2009ء میں اے ٹی وی اور 2011ء میں ڈان نیوز کو بطور رپورٹر اوربعد میں ڈسٹرکٹ رپورٹر رپورٹنگ کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ،

سوال : راجن پور میں رپورٹنگ میں درپیش میں مسائل کون سے ہیں ؟

راجن پور ضلع کا احاطہ 250 کلومیٹر کے لگ بھگ ہے پورے ضلع میں کہیں بھی کوئی ناگوار واقع ہو ، احتجاج ہو ، مظاہرہ ہو ، اسلامی تہوار ہو ، کوئی ایونٹ ہو رپورٹنگ کے لیے رپورٹر کو فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے ایک دن میں سینکڑوں کلومیٹر طے کرنا پڑتا ہے ، کسی مظلوم کی آواز ہو یا پھر کسی ظالم کا ظلم رپورٹنگ اور سٹوری کے لیے فوری طور پر جانا رپورٹر کے فرائض منصبی میں شامل ہے ، رپورٹنگ میں تہوار ذاتی مصروفیات کوئی حیثیت نہیں رکھتیں ، کچہ آپریشن میں چالیس دن تک روجھان کے کچہ میں رہے اور چھوٹو گینگ کی گرفتاری تک وہیں رہے اور لمحہ بہ لمحہ باخبر رکھنے کی ذمہ داری کو انجام دیا ،2010ء کے فلڈ میں کوریج کے دوران مٹھن کوٹ میں فخرجہاں بند ہمارے سامنے ٹوٹا اپنی جان مشکل سے بچائی ، ہمارے کیمرے پانی میں تیر رہے تھے ،
علی پوراور راجن پور کی سرحد پر ایک بچی کے ریپ کیس کی سٹوری پر کوریج کے لیے گئے تو مخالفین نے ہمارے اوپر فائرنگ کردی اللہ نے جان بچائی راجن پور پہنچ کر سجدہ شکر ادا کیا ،
فاضل پور میں ماڈل ویلج کے افتتاح کے دوران دن میں تمام لائیٹیں جلا رکھی تھیں جبکہ اسی وقت وزیراعلی پنجاب میں شہباز شریف مینار پاکستان کے احاطہ میں واپڈاکی لوڈ شیڈنگ کے خلاف دھرنا دیا ہوا تھا ڈان نیوز پر ایک ٹکر دھرنا کا چلتا دوسرا ماڈل ویلج کے افتتاح میں بجلی کا بے جا استعمال کا ٹکر چلتا اس پر ضلعی انتظامیہ نے کافی حراساں کیا لیکن پھر بھی اپنے قدم کبھی پیچھے نہیں ہٹائے ،
مٹھن کوٹ میں ایک نسوار فیکٹری میں چائلڈ لیبر ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والے کارخانے کی رپورٹنگ کی پولیس بھی ہمراہ تھی بچے بھی برآمد ہوئے لیکن بجائے پولیس ان ملزمان کے خلاف کاروائی عمل میں لاتی الٹا پولیس نے میرے اور میرے ساتھی ٹیم پر ایف آئی آر درج کردی تھی ،
علاقائی وڈیروں کی جانب سے کئی مرتبہ دھمکیاں بھی ملیں لیکن اپنی کام محنت دیانتداری اور لگن کے ساتھ کرتا رہا صرف اور صرف اللہ کی رضا اور سائل کی حق رسی کو اپنا مقصد سمجھا ، وڈیروں کی جانب سے پہلے بھاری رقومی کی آفرز ہوئیں نہ ماننے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی ملیں ، زر کو زندگی کبھی نہیں سمجھا کیونکہ میں نے موٹر سائیکل پر رپورٹنگ شروع کی تھی آج بھی اسی موٹر سائیکل پر گھومتا ہوں

سوال : زندگی کی کوئی خواہش ؟

زندگی کی ایک ہی خواہش ہے کہ اگر کبھی رپورٹنگ کرتے ہوئے کسی ظالم وڈیرے یا کسی کرپٹ آفیسر کی گولی کا نشانہ بنوں تو مجھے انہیں خون آلودہ کپڑوں کے ساتھ دفن کیا جائے اور اسی حالت میں میری نماز جنازہ ادا کی جائے ،

رابطہ نمبر : 03336444089

ہماری خبر پر نوٹس والے اداروں سے گزارش ہے کہ یہ ابتدائی معلومات اور تجزیہ کے طور پر اطلاع فراہم کرنا ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں ، اس پر ایکشن لینے سے پہلے ہمارے قوانین اور پرائیوسی پالیسی کو ضرور پڑھ لیں ،مزید معلومات کے لیےدیئے گئے نمبر پر رابطہ کریں ، شکریہ

اپنا تبصرہ بھیجیں