راجن پور کا مقدمہ ، عبدالجبار خان دریشک کی خون آ لود تحریر

تحریر و تحقیق : عبدالجبار خان دریشک

ملک میں سیاسی کشمکش اور عدم استحقام کی صورت حال میں عوام کے مسائل نہ حکمرانوں کو یاد ہیں اور نہ ہی اپوزیش کو سب کرسی کے چکر میں لگے ہوئے ہیں ملک میں ترقیاتی کام ہو بھی رہے ہیں تو وہ صرف چند بڑے شہروں تک محدود ہیں  پنجاب کو ترقیاتی کاموں کے حوالے سے باقی ملک کی نسبت بہتر سمجھا جاتا ہے پنجاب میں تیزی سے ہوتے ترقیاتی کاموں اور ان رفتار کا جائزہ لیا جائے تو پنجا ب میں پیداوار اور وسائل ایک حصے میں موجود ہیں جبکہ ترقیا تی کام اور ان پر آنے والے اخرجا ت دوسرے حصے میں خرچ ہو رہے ہیں

جنوبی پنجا ب جس میں پسما ند گی تاحال برقرار ہے جنوبی پنجاب کی زرعی پیدار وار پورے ملک میں سے زیادہ ہے اسی جنوبی پنجاب کا آخری ضلع راجن پور پسما ند ہ ترین اضلا ع میں شمار ہو تا ہے جہاں شرح خواندگی نچلی ترین سطح پر ہے غربت بے روزگاری سہولیات کی کمی بیماریاں سب حوالے سے صورت حال افسوسناک ہے لیکن یہاں کی زرعی پیدار وار کے اعداد شما ر حیر ان کن ہیں راجن پور پورے پنجا ب میں بلکہ پورے پاکستان کی اوسط پیدار وار میں اپنا ایک اچھا خاص حصہ شامل کر تا ہے

جغرافیائی اعتبار سے راجن پور سند ھ بلو چستان کے سنگم پر واقعہ ہے راجن پور کے مغرب میں کوہ سلیما ن کا پہاڑی سلسلہ مشرق میں دریا سند ھ ہے راجن پور کی زمینیں سو نا اگلتی ہیں یہاں کا کل رقبہ18 لا کھ 55 ہزار 257 ایکڑ ہے اور قابل کا شت رقبہ 9 لاکھ 67 ہزار کے قریب ہے زیادہ تر رقبہ پر گند م کا شت کی جاتی ہے جو کہ 4 لاکھ 14 ہزار ایکڑ ہے کپاس 3 لاکھ 39 ہزار ایکڑ گنا 40 ہزار ایکڑ ا‘چاول 14 ہزار 502 ایکڑ آم کے با غا ت تقریباً 20 ہزار ایکڑ پیاز دس ہزار ایکڑ اس کے علاوہ دیگر فصلیں جن میں سبزیاں جانوروں کے چارے کے لیے گھاس اور تحصیل جام پور میں تمباکو کی کاشت بھی شامل ہے اگر یہاں گند م کی پیدا وار کی بات کی جا ئے تو 2017 میں محکمہ خوراک پنجاب نے پورے پنجا ب میں سے گندم کی 4 کروڑ بوریوں خریداری کی جن میں سے 47 لا کھ پچاس ہزار بو ری ڈیرہ غا زی خا ن ڈو یژن سے خرید کی گئی ڈیر ہ غا زی خا ن ڈویژن چار اضلا ع مظفر گڑھ‘ لیہ‘ڈیر ہ غا زی خا ن اور راجن پور پر مشتمل ہے صرف اکیلے راجن پور سے گند م کی16 لا کھ بوری تھی اور دس لا کھ بوری کے قریب دوسرے صوبوں اور دیگر علاقوں کے کے بیو پاری اور فلو رملز والوں نے خریدیں اور اس سے کہیں زیادہ گند م کا شت کاروں اور علا قے کے لو گوں نے اپنی سالانہ ضرورت کے پیش نظر اپنے پاس محفوظ کر لی۔

راجن پور کو کپاس کے پیداوار اور کو الٹی کے حو الے پورے پاکستان میں اعلی شمار ہوتی ہے جو اپنے لمبے ریشے اور اعلی معیا ر کے اعتبار سے بلو چستان میں چند اضلاع کے بعد پنجا ب میں راجن پور اور رحیم یا ر خان کی تحصیل صادق آبا کا نمبر آتا ہے گزشتہ سال پنجا ب میں کپاس کی پیداوار 80 لا کھ بیلز تھیں جن میں سے صرف راجن پور کی پیداوار 4 لا کھ بیلز تھیں

پاکستان میں گنے کی فصل کے حوالے سے سند ھ کے بعد پنجا ب میں رحیم یار خان اور راجن پور کا نمبر آتا ہے راجن پور کا گنا ہ ریکو ری کے اعتبار سے اعلی کو الٹی کا تصور ہو تا ہے جس کی ریکو ری فی سو کلو گنے میں سے 11 سے 12 کلو چینی ہے راجن پور میں دریا سند ھ کے کنارے گنے کی فی ایکڑ پیداوار 11 سو سے 13 سو من ہے جبکہ یہاں پر ایک ہی شوگر مل ہے جس کی سالانہ چینی کی پیداوار تقریباً 30 لاکھ بیگ کے لگ بھگ ہے اس کے علاوہ بڑی تعداد میں یہاں کا گنا ہ سندھ اور رحیم یار خان کی شوگر ملز کو بھی سپلائی ہوتا ہے۔

  راجن پور چونکہ ایک زرعی علاقہ ہونے کی وجہ سی یہاں کی زیادہ تر آبا دی دیہا توں میں رہتی ہے لو گ کھیتی باڑی کے ساتھ ما ل مو یشی بھی پا لتے ہیں لائیو سٹاک میں راجن پور ملکی ضروریات کا 8 سے 10 فیصد چھو ٹا گو شت اور 12 سے 14 فیصد بڑا گو شت پورا کر تا ہے قربانی پر پورے پاکستان سے خریدار یہاں کا رخ کرتے ہیں

زراعت کے لئے شعبے میں پا نی سب سے اہم بنیا دی اور پہلی ضرورت ہے پانی کے بغیر ویر انی ہو گی خوشحالی کا تو تصور  ہی نہیں کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی قسم کی فصل اگائی جا سکتی ہے نہری پانی فصلوں کے لئے بے پناہ فائدہ مند ہونے کے ساتھ سست اور آسان ذریعہ بھی ہے لیکن راجن پور میں نہری پانی کی صورتحال بھی  افسو سنا ک ہے یہاں نہر ی پا نی فصلوں کے علاوہ انسانی ضرورت کو بھی پورا کر تا ہے کیو نکہ زیر زمین پانی کڑوا اور نا قابل استعما ل ہے دوسرا واٹر سپلائی سیکمز ناکارہ ہونے کی وجہ سے انسا ن نہر ی پا نی پینے پر مجبور ہیں ڈیرہ غا زی خا ن اور راجن پور کے دو اضلا ع کے لئے ایک ہی نہرجس کا نا م ڈی کینال جو تونسہ بیر اج سے نکالی گئی ہے جس میں پا نی کو کو ٹہ دس ہزار کیو سک تک ہے جب یہ نہر راجن پور کی حد دو میں زیر وہیڈ کے مقا م پر داخل ہو تی ہے تو اس کا ڈسچا رج 32 سو کیو سک رہے جا تا ہے جو پورے ضلع راجن پور کی ضروریات کو پورا کرنے لئے انتہا ئی نا کا فی ہے مزید حیر انی کی بات یہ ہے کہ یہ نہر سالا نہ کی بجا ئے ششما ہی ہے اس نہر سے مزید لنک نہر یں نکا لی گئی ہیں جن میں پا نی وارا بندی کےحساب سے آٹھ آٹھ دن کے وقفے سے چھوڑا جاتا ہے اس کے علاوہ داجل کینا ل کی توسیع کا منصوبہ برسوں سے زیر التوا کا شکار ہے یہاں کے بچا رے کسان اپنی پا نی کی ضروریات ٹیو ب ویل سے پوری کرنے پر مجبور ہیں اس ذریعہ آبپاشی سے کاشت کاروں کو بچت کی بجا ئے نقصا ن اٹھانا پڑتا ہے

کسانوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیم کے سیکرٹر ی جنر ل راو افسر راجن پور میں کسانوں کے حقوق کے لئے بہت سرگرم ہیں پانی کے مسئلے کے لئے انہوں نے یہاں کسانوں پر مشتمل اونٹوں پر 610 کلو میٹر طو یل لانگ ما رچ لا ہور کی جانب کیا تھا بلوچستان کو جانے کچی کینا ل راجن پور سے گزر رہی ہے جو تاحال مکمل نہ ہو سکی  کچی کینا ل  سے راجن پور کو پا نی نہیں دیا جائے گا لیکن پر ویز مشرف نے ڈیر ہ غازی خا ن کے جلسے میں راجن پو ر کے کسا نوں سے وعدہ کرتے ہو کہا تھا کہ کچی کینا ل سے راجن پور کو ایک ہز ار کیو سک پا نی دیا جا ئے گا پانی دیا جائے گا لیکن اب کا پتہ نہیں ہے اس منصوبہ کے مکمل ہونے کے بعد پتہ چلے گا راجن پور میں ہر سال سیلا بی پا نی تبا ہی مچا تا ہے 2010ء کے ہولناک سیلاب کے بعد یہاں ہر سال سے مسلسل سیلاب آجا تا ہے ایک دریا سند ھ کی طر ف سے دوسرا کوہ سلیما ن کے پہاڑی سلسلے سے ان پہاڑی ندی نا لوں میں سالانہ ایک اندازے کے مطابق 4 لاکھ کیوسک پانی آتا ہےجو مختلف علاقوں میں تباہی مچا نے کے بعد دریا برد ہو جاتا ہے لیکن ایسی کوئی حکمت عملی نہیں بنا ئی گئی کہ اس برساتی پا نی کو پہاڑوں میں ڈیم بنا کر سٹو ر کیا جا ئے سیا ست دانوں کی طرف ہر دفعہ ایسے وعدے سامنے آتے ہیں کہ ڈیم کا منصوبہ جلد شروع ہو گا ایسا عملی طور پر آج تک نہ ہو سکا اگر ڈیم بنا دیا جا تا ہے تو اس کے بہت زیادہ فا ئد ے ہیں ایک تو سیلا ب کی تباہ کاریوں سے بچا جا سکتا ہے دوسرا بارانی علاقہ جس کو پچادھ کہا جا تا ہےجہاں کی زمین سونا اگلنے والی ہیں جس پر فصلیں بغیر کھاد کے پک جا تی ہے لیکن پانی نہ ہو نے کی وجہ سے لاکھوں ایکڑ زمین بنجر پڑی ہے جو ڈیم بنے کے بعد آباد ہو جا ئے گی

راجن پور کی آبادی اور ان کی ضروریا ت وسائل کی بات کی جا ئے تو یہاں بھی صورت حال حیر ان کن ہیں 1998 کی مردم شماری میں راجن پور کی آبادی 16 لاکھ تھی جبکہ مو جودہ مر دم شماری کے نتا ئج ابھی سامنے نہیں آئے ہیں ایک اند از ے کے مطابق راجن پور کی مو جودہ آبا دی 30 لاکھ کے لگ بھگ ہوگی اتنی ساری آبادی کے لئے ہسپتا لوں اور اور تعلیمی اداروں کی صورت حا ل کچھ یوں ہے راجن پور میں ایک DHQ ہسپتال دو عدد THQQ ایک عدد سول ہسپتال ہے اس کے علاوہ اور 6 عدد رولر ہیلتھ سنٹر 32 بیسک ہیلتھ یو نٹ ہیںDHQ ہسپتال میں 138 بستر THQ اور سول ہسپتال میں 40 بستر ہر ہسپتال میں جبکہ DHQ ہسپتال میں چند ایک سپشلسٹ ڈاکٹرز تعینا ت ہیں یہاں ماہر سرجن اور گا ئنا کا لو جسٹ نہیں ہے اکثر پیچید ڈلیوری کیسز کے لئے مر یضوں کو ملتان اور بہا ولپو ر شفٹ کر نا پڑتا ہے جو لوگ علاج اور آپر یشن کے بھاری اخراجات برداشت کر سکتے ہیں وہ تو دوسرے شہر جاتے ہیں باقی مر یض یہاں تڑپ تڑپ کر مر جا تے ہیں یہاں خواتین کی زچگی دوران امو ات کی شر ع زیا دہ ہے باقی تما م چھوٹے ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور سہو لیات کی تو ویسے ہی کمی ہے بیسک ہیلتھ یو نٹس میں ایمر جنسی کے سہولت ہے اور ان ہیلتھ یونٹ میں ڈلیوری کیس کی سہولت کے لئے ایک بستر پر مشتمل ایمر جنسی بھی قا ئم تو ہے پر کا غذوں کی حد تک کبھی ان میں مریض کو داخل نہیں کیا گیا

راجن پور کے اکثر علاقوں میں زیر زمین پانی کڑوا اور مضر صحت اور پینے کے قابل نہیں نے قابل نہیں ہے خراب اور مضر صحت پا نی سے گردے کی پتھر ی ‘ کالے یر کان ‘ معدے اور دیگر مر یضوں کی تعداد زیا دہ ہے DHQ ہسپتال میں ڈائیلسز کی صر ف پانچ مشینیں ہیں جن میں سے چا ر سرکاری طورپر فراہم کی گئی ہیں اور ایک عطیہ شدہ ہے اس کے بر عکس رجسٹرڈ ڈائیلسز کر انے والے مر یضو ں کی تعداد 80 سے زیادہ ہے جن کو ہفتے میں دو مر تبہ ڈائیلسز کر وانا پڑتا ہے راجن پورمیں 500 بسترپر مشتمل ترکش ہسپتال تعمیر ہو نا تھاجس کا ابھی تک پی سی ون بھی تیار نہیں کیا گیا ہے ٹراما سنٹر کا منصوبہ منظوری کے باوجود کینسل ہو گیا صحت کی طر ح تعلیم کے کی صورت حال بھی کچھ مختلف نہیں ہے جو ما یو س کن ہے

راجن پور شرح خواندگی انتہا ئی کم ہے جو پورے پنجاب میں آخری درجے پرہے پورے راجن پور میں اتنی آبادی ہو نے کے باوجود یہاں پر کسی یو نیورسٹی کا کمپس نہیں ہے وزیر اعظم میاں محمد نواز شر یف کے پہلے دور حکو مت میں راجن پور کے لئے اسلا مک انٹر نیشنل یو نیو رسٹی کے قیا م کا منصوبہ منظور کیا گیا تھا جس کا سنگ بنیاد خود میاں محمد نو از شر یف نے بطور وزیر اعظم پاکستان نے  1992 میں رکھا تھا جس کے لئے مقامی زمینداروں نے کئی مر بعے زمین بھی عطیہ کر دی تھی لیکن اچا نک اس یو نیو رسٹی کو اسلام آباد منتقل کر دیا گیا جو راجن پور کی عوام کے ساتھ بہت بڑی زیا دتی کی گئی راجن پور میں اس وقت 2 پوسٹ گریجو یٹ کا لج ہیں جن میں صرف تین تین مختلف سبجیکٹ میں ایم اے کر وایا جا رہا ہے راجن پور پوسٹ گر یجو یٹ کالج میں انگلش ‘ اسلا میات ‘ ہسٹر ی اس علاوہ جا م پور پوسٹ گریجو یٹ کا لج میں ارد و انگلش اور اکنا مکس اس کے علاوہ پورے ضلع میں سات ڈگری کا لجز ہیں جن میں سے 2 بو ائز 5 گرلز ہیں اور مزید 2 زیر تعمیر ہیں تین کا مرس کا لج اور ایک ٹیکنا لو جی کالج جس میں تین سالہ کورسز کی بجا ئے چھ چھ ما ہ کے شارٹ ڈپلومہ کورسز کروائے جا رہے ہیں

راجن پور میں 1166 سرکاری سکول ہیں 998 پر ائمری سکول جن میں سے 653 بو ائز 345 گرلز‘ 87مڈل سکول جن میں سے 34 گرلز 53 بوائز 69 ہائی سکول ہیں ان میں سے 45 بوائز 24 گرلز ‘12 ہا ئر سکنڈری سکول جن میں سے 7 بوائز 5 گرلز ہیں اس کے علا وہ ایک دانش سکول فاضل پور اور ایک سکول آف ایکسی لینس روجھان میں ہے یہاں کی آبادی اور لو گوں کی معاشی صورت حا ل کا جا ئز ہ لیا جا ئے تو صحت اور تعلیم کی سہولیات نہ ہو نے کے برابر ہیں یہاں مر یض کے علا ج کی طر ح بچوں کی تعلیم کے لئے بھی بڑے شہر وں کا رخ کر نا پڑتا ہے جس پر بھا ری آخراجات آتے ہیں مجبورً والد ین کو بچوں کے مستقبل کی خا طر اپنی جا ئیدایں فر وخت کرنا پڑتی ہیں لیکن جن کے پاس کسی قسم کی جا ئیدا د ہو گی تو وہ ہی بچوں کو پڑھا ئیں گے باقی بچارے بچے مڈل میٹرک بہت کم ایف اے اور بہت تھوڑے سے بی اے کر جاتے ہیں ایم اے تو قسمت والے ہی کر تے ہیں اکثر والدین کے خواب ادھو رے رہے جا تے ہیں راجن پور جہاں پورے ملک کی زرعی اور دیگر ضروریات پوری کر رہا ہے لیکن راجن پور کو اس کا حق نہیں دیا جا رہا ہے یہاں کے مسائل اور پسماند گی پاکستان بننے سے پہلے جو تھی اب بھی اس میں کو ئی کمی یا تبدیلی نہیں آئی ہے۔

راجن پور کو کسی بھی دور حکومت میں بڑا منصوبہ نہیں دیا گیا جو علا قے کی تقدیر بدل دیتا اور جو منصوبے دیے بھی گئے وہ بھی خا موشی سے واپس لے لئے گئے یہاں کے سیا ست دان بھی آج تک راجن پور کے کوئی بڑا منصوبہ نہیں لا سکے او ر نہ اسمبلی میں راجن پور کی پسما ند گی اور وسائل مقدمہ لڑے ہیں راجن پورکے سیاست دانوں کو ہر دور حکو مت میں بڑے بڑے عہدے بھی ملے ہیں لیکن بات عہدوں تک محدود رہی عوامی مسائل پر کسی نے غور ہی نہیں کیا یہاں کے سیاست دان تو کچھ نہیں کر ہے ہیں لیکن کوئی تو ان وسائل اور مسائل کو دیکھے ہماری پسما ند گی اور وسائل کو دیکھتے ہوئے ہمارا مقدمہ سنے اور یہاں کی عوام کو انصا ف فراہم کرے ،

(بشکریہ عبدالجبار خان دریشک)

رابطہ نمبر : 03336444089

ہماری خبر پر نوٹس والے اداروں سے گزارش ہے کہ یہ ابتدائی معلومات اور تجزیہ کے طور پر اطلاع فراہم کرنا ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں ، اس پر ایکشن لینے سے پہلے ہمارے قوانین اور پرائیوسی پالیسی کو ضرور پڑھ لیں ،مزید معلومات کے لیےدیئے گئے نمبر پر رابطہ کریں ، شکریہ

اپنا تبصرہ بھیجیں