راجن پور گورنمنٹ مڈل سکول اسپیشل ایجوکیشن کے سالانہ رزلٹ کے موقع پر تقریب تقسیم انعامات،

previous arrow
next arrow
ArrowArrow
Slider

راجن پور(بیورورپورٹ) گورنمنٹ مڈل سکول اسپیشل ایجوکیشن کمپلیکس راجن پور کےسالانہ امتحانات میں نمائیاں کارکردگی حاصل کرنے والے طلباء و طالبات میں ٹرافیاں جبکہ پاس ہونے والے طلباء و طالبات میں میڈل تقسیم کرنے کے لیے ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں معروف سماجی شخصیت سردار زاہد خان رند ڈپٹی چیف ایگزیکٹو صاحب گروپ لاہور اور صوبائی آ رگنائزر رند قومی اتحاد پاکستان نے مہمان خصوصی اور امجد حسین ملک ڈسٹرکٹ رپوٹر صاحب گروپ لاہور اور ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر پاکستان انٹرنیشنل ہیومن رائٹس آ رگنائزیشن اسلام آباد بطور مہمان شرکت کی جبکہ میزبانی کے فرائض پرنسپل گورنمنٹ مڈل سکول اسپیشل ایجوکیشن کمپلیکس آ صف بشیر عطاری نے سرانجام دئیے ، دیگر سٹاف میں حسنین ناصر جے ایس سی ٹی ، نوید شہزاد ایس ایس ای ٹی ، عبدالغفار جے ایس ای ٹی ، زاہد حسین بھٹی جے ایس ای ٹی ، محمد یونس ڈرائنگ ماسٹر ، عرفان الٰہی سئنیر کلرک ، اویس اقبال جونئیر کلرک ، جبکہ دیگر سٹاف میں سید خالد نذیر ، زاہد محمود ، ارشاد احمد ، عبدالخالق ، حسنین عباس، خالد محمود ، دانش اکرم ، زاہد اقبال، محمد ارشد ڈوگر ، ثقلین احمد ، آبدار عثمانی اور آ ہڑ خان شامل تھے والدین میں الطاف حسین ، سید آ فاق شاہ ، محمد حنیف گبول ، غلام اکبر ، غلام عباس اور سعید احمد پتافی شامل تھے

مہمانان گرامی جب سکول میں داخل ہوئے تو طلباء نے پھول کی پتیوں سے ان کا استقبال کیا اور اپنے معصوم چہروں پر مسکراہٹ لا کر آ نیوالے معزز مہمانوں کو ویکم کہا جبکہ پرنسپل آ صف بشیر عطاری نے پھولوں کے ہار پہناکر معززین مہمانوں کو خوش آمدید کہا مہمانوں کے استقبال کے بعد تمام بچے ترتیب اور منظم انداز میں بیٹھ گئے اور مہمانوں کو پروقار سٹیج پر بٹھانے کے بعد تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا جس کی سعادت ایک اسپیشل بچے نے حاصل کی ، تلاوت قرآن مجید کے بعد نعت رسول مقبول بھی اسی بچے نے ادا کی نعت میں “اب تو آ نکھوں میں بھی کچھ نہیں ہے سوچتا ہوں انکو نظر کیا دوں ” کے جملے نے تمام شرکاء اور خصوصاً مہمان خصوصی کو آ بیدہ کر دیا کیونکہ نعت خواں نابینا تھا ، ماحول پر اس کی نعت کی ادائیگی نے سکوت طاری کردیا ،

نعت کے بعد نقیب محفل زاہد حسین بھٹی استقبالیہ کے لیے پرنسپل آ صف بشیر عطاری کے لیے ایک خوبصورت شعر پڑھا:

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتاہے چمن میں دیدہ ور پیدا

اپنی تقریر میں انہوں نے سامعین کو اپنی پورے سال کی کارکردگی بیان کرتے ہوئے کہا کہ سکول میں ڈیڑھ سو بچے زیر تعلیم ہیں اور ان میں سے کوئی بچہ بھی فیل نہیں ہوا اور یہ سب میری ٹیم کی لگاتار محنت کا پھل ہے انہوں نے کہا کہ ہمارے سکول کے بچے الحمداللہ اب بہاولپور ، ملتان اور رحیم یار کے کالجوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں ، اور شعیب رفیق اس وقت یہاں سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد اب برسر روزگار ہے اور سرکاری نوکری کررہا ہے ، ہمارے سکول میں اب ووکیشنل ٹریننگ بھی شروع ہوچکی ہے جس کی مدد سے ہمارے اساتذہ ٹیلرنگ کی تعلیم دے رہے ہیں تاکہ یہاں سے فارغ ہونے کے بعد ہمارے بچے معاشرے میں برسر روزگار ہوکر عام لوگوں کی طرح معاشرے کا حصہ بن سکیں ، ہمارے سکول میں سب سے زیادہ اہم کردار ہمارے ڈرائیور حضرات کا ہے جو سکول اوقات سے دوگھنٹہ قبل ڈیوٹی سر انجام دیتے ہیں اور انتہائی زمہ داری کے ساتھ بچوں کو سکول پہنچاتے ہیں اور اسی طرح سکول سے ان بچوں کو واپس گھروں تک پہنچانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے اس اچھے رزلٹ میں میرے سکول کے جملہ سٹاف کی شبانہ روز محنت ، جدوجہد اور مستقل مزاجی کا نتیجہ ہے اور سپوٹننگ سٹاف کا بھی شکر گزار ہوں جو اس ادارے میں اپنے فرائض منصبی سرانجام دینے میں کوئی خاطر بجا نہیں لاتے ،

آ خر میں انہوں نے مہمان خصوصی سردار زاہد خان رند کی خصوصی شرکت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج کے مہمان خصوصی ایک انفرادی اہمیت کے حامل ہیں وہ یہ ہے کہ آ ج تک جو بھی مہمان تشریف لائے ہیں ان سے ہم نے ٹائم لیا ہے لیکن سردار زاہد خان رند نے خود ہم سے رابطہ کیا اور کہا کہ میری تمام تر خدمات اس سکول کے لیے ہمیشہ کے لیے وقف ہیں اور انہوں نے ایک دن ان اسپیشل بچوں کے ساتھ گزارنے کے لیے ہم سے ٹائم مانگا تو ہمیں اس بات سے واضع اندازہ لگا لیا کہ وہ ان بچوں کے لیے کتنا درد رکھتے ہیں اورانکی اس اپنائیت کے احساس نے آ ج اس خصوصی دن کے لیے انہیں مدعو کرنا ضروری قرار دیا،

اس کے بعد مہمان خصوصی سردار زاہد خان رند کو بچوں اور شرکاء سے خطاب کرنے کے لیے سٹیج پر بلایا گیا تو بچوں نے کھڑے ہوکر بھرپور تالیاں بجائیں ، انہوں نے کہا کہ میں سکول انتظامیہ بالخصوص آ صف بشیر عطاری صاحب کا بے حد مشکور ہوں جنہوں ان بچوں کے ساتھ گزارنے کے لیے مجھے عزت بخشی ، میرا دل ایک واقع کی وجہ سے کل سے افسردہ تھا گزشتہ روز میں اپنے بھانجے کی تیمارداری کے رحیم یار خان ہسپتال میں تھا وہاں غربت سے تنگ آکر ایک والدہ نے خود زہر کھالیا اور دو بیٹوں کو بھی زہر کھلا دیا ان بچوں کو ہسپتال میں اپنی آ نکھوں کے سامنے دم توڑتا دیکھا تو میرا دل افسردہ تھا اور اللّٰہ تبارک و تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے یہ بات کہنے جارہا ہوں کہ روز قیامت نہ صرف ان حکمرانوں سے ان بچوں کی ا موات کی بازپورش بلکہ اس علاقے میں صاحب حیثیت مخیر حضرات سے بھی ضرور پوچھا جائیگا ،

سردار زاہد خان رند نے بچوں اور والدین سے مخاطب ہوکر کہا کہ میں سالانہ امتحان میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلباء وطالبات کو اور انکے والدین کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اس مبارکباد کے خاص حقدار وہ اساتذہ ہیں جنہوں نے ان کی تعلیم اور تربیت کو اولین فریضہ سمجھ کر ادا کیا ہے انہوں نے پیشانی پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ میں ان اساتذہ اور والدین کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں ان بچوں کو معاشرے کا حصہ بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کررہے ہیں ، اور اپنے محدود وسائل میں بہترین کارکردگی دکھا رہے ہیں ،

اور صاحب میڈیا گروپ کی وساطت سے میں ان بچوں کے لیے تمام مخیر حضرات سے اپیل کروں گا کہ وہ آ ئیں خصوصی وقت نکالیں اور کی ان بنیادی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے بھرپور تعاون کریں ، مثلاً گراسی گروانڈ اور کھیل کا سامان جن میں جھولے ، سلائیڈرز اور سوئنگز وغیرہ کا ہونا انتہائی ضروری ہیں ، گراسی گروانڈ کے لیے میں انشاءاللہ ٹیوب ویل اپنی طرف سے لگوا کر دوں گا ، اور اس کے علاؤہ کبھی بھی کسی وقت کہیں بھی میری ضرورت محسوس ہو میں دامے درہمے سخنے ان بچوں کے لیے ہر وقت حاضر ہوں ،

اس پر بچوں میں ایک خوشی کی لہر دوڑ گئی اور تالیوں کی گونج نے ایک مرتبہ پھر اپنے مہمان خصوصی کا شکریہ ادا کیا ،

اس کے بعد بچوں میں پہلی دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والوں میں ٹرافیاں جبکہ پاس ہونے والوں میں میڈل تقسیم کرنے کا مرحلہ آ یا تو مہمان خصوصی اور پرنسپل صاحب نے بچوں میں انعامات تقسیم کیے انعامات کے بعد تمام بچوں کے ساتھ گروپ فوٹو بھی بنایا گیا ، بچوں اور سٹاف کے لیے ظہرانے کا انتظام بھی کیا گیا ،

رابطہ نمبر : 03336444089

ہماری خبر پر نوٹس والے اداروں سے گزارش ہے کہ یہ ابتدائی معلومات اور تجزیہ کے طور پر اطلاع فراہم کرنا ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں ، اس پر ایکشن لینے سے پہلے ہمارے قوانین اور پرائیوسی پالیسی کو ضرور پڑھ لیں ،مزید معلومات کے لیےدیئے گئے نمبر پر رابطہ کریں ، شکریہ

اپنا تبصرہ بھیجیں