ضلع راجن پور کی سیاست کے نئے انکشافات ، سردار چاند خان دریشک کی زبانی

تجزیہ و انٹر ویو : امجد ملک ،

previous arrow
next arrow
ArrowArrow
Slider

سردار جہاں زیب خان دریشک المعروف چاند خان دریشک سے گزشتہ روز ایڈمن انچیف آواز 92 کی خصوصی ملاقات ، علاقائی اور قومی سیاست کے بارے میں تفصیلی گفتگو ، سردار چاند خان دریشک نے علاقائی سیاسی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ راجن پور میں مسلم لیگ ن بری طرح ناکام ہو چکی ہے کیونکہ انہوں نے عوام کے بنیادی مسائل کو چھوڑ کر گلیوں اور سڑکوں کو بنانے پر زور دیا اس کی وجہ صرف اور صرف کمشن مافیہ کو فروغ دینا ہے مثال کے طور پر ایک سڑک کو لے لیتے ہیں ٹینڈر ہونے سے لیکر آخری بل پاس ہونے تک ٹھیکدارمسلم لیگ ن کے ایم این اے اور ایم پی اے کے آشیرباد حاصل کرنے کے لیے اپنی حاضری لگواتا ہے اس کے بعد حصے ہوتے ہوتے 25 فیصد فنڈ بھی اس سڑک پر نہیں لگایا جاتا ، اسی طرح گلیاں اور باقی عمارات کی تعمیر کا تناسب بھی نکالا جا سکتا ہے ، ایک ٹھیکدار تو آن دی ریکارڈ ہے جس کو بھتہ نہ دینے اور ایم این اے کی منتخب جگہ سے پتھر نہ لینے کی وجہ سے نہ صرف ایف آئی آر کا سامنا کرنا پڑا بلکہ اس علاقے کے لوگوں کے ہاتھوں اس کو بے عزت بھی کرایا گیا ، آپ اس کو سیاست کہتے ہیں ؟
آئیں میں آپکو بتاتا ہوں کہ سیاست کسے کہتے ہیں راجن پور ضلع بھر میں 96 ہزار خواتین آج بھی بینظر انکم سپورٹس پروگرام کے تحت گھریلو راشن کی مد میں ماہانہ وظیفہ لے رہی ہیں آپ بتائیں کہ اس میں ہے کوئی پاکستان پیپلز پارٹی کا کمشن ؟
محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی سوچ کو میں سلام کرتا ہوں کہ انہوں نے ہمیشہ ایسے اقدام کو ترجیح دی کہ جس کی وجہ سے ہماری آنیوالی نسلوں کی بہتر تعمیر و ترقی ہوسکے جس کی مثال بینظر برج جو کہ راجن پور کا دیرینہ خواب تھا مخدوم شہاب الدین نے ذاتی دلچسپی لیکر پورا کرایا آج ہمارا فاصلہ رحیم یار خان سے صرف ڈیڑھ گھنٹہ کی مسافت پر ہے اور ہم اس ترقی یافتہ ضلع کے ساتھ جڑ گئے ہیں ، پاکستان پیپلز پارٹی نے جنوبی پنجاب کو ہمیشہ فوقیت کی نگاہ سے دیکھا ہے ،
پاکستان مسلم لیگ ن کے راجن پور میں ایم این اے اور ایم پی اے نے جو وعدے کییے تھے ان میں سے کون سا وعدہ پورا کیا ہے ، سوئی گیس کا ہرسال افتتاح سنتے آرہے ہیں ، کہاں ہے سوئی گیس ؟ بس یہی پتہ چلتا ہے سوئی گیس کے لیے فنڈ مختص ہوچکا ہے اس کے بعد اس فنڈ کو زمین کھاجاتی ہے یا آسمان ؟ راجن پور کی غیور عوام اس وقت مانے گی جب ان کے چولہے سوئی گیس سے جلیں گے ؟ بجلی کا وعدہ کیاتھا ؟ آج بھی 40 فیصد سے زائد علاقوں میں بجلی چوری ہورہی ہے لینڈ لاسس کو پورا کرنے کے لیے واپڈا نے بلوں پر میٹر ریڈنگ پرنٹ شروع کردیا تو واپڈا اہلکاروں نے بجلی چوری کی ایف آئی آر درج کرانا شروع کردیں ، میرے ساتھ چلیں میں آپکو دکھاتا ہوں کہاں کہاں بجلی چوری ہو رہی ہے جہاں ایک دفعہ اییس ڈی او واپڈا بھی گیا تھا لیکن جوتے کھاکر واپس آیا بتائيں اس کو سیاست کہتے ہیں کہ امیروں کے گھر میں چار چار اے سی چلیں اور بل غریب لوگ بھریں کیونکہ راجن پور میں ضلعی سطح پر ایک میٹر لگا ہوا ہے جو پورے ضلع کی ریڈنگ دے رہا ہے اب واپڈا والے تو میٹر کی ریڈنگ کے برابر بل کرنے پر مجبور ہیں ، واپڈا کے حوالے سے ایک اور دلچسپ بات بتا تا ہوں کہ مٹھن کوٹ کے ساتھ ایک گاؤں میں صرف ایک کھمبہ لگانے کی وجہ سے پوری بستی میں بجلی پہنچ جاتی لیکن صرف اس وجہ سے وہاں کھمبہ نہیں لگایا کہ وہ بستی پاکستان پیپلز پارٹی کے ووٹرز کی تھی ، بھائی کیا یہ سیاست ہے ؟
ضلع راجن پور میں وزیر اعلی پنجاب کیجانب سے 25 لاکھ فی یونین کونسل کے لیے ترقیاتی کاموں کے لیے فنڈ آیا لیکن یہ فنڈ صرف ان یونین کونسل میں پہنچا جہاں پاکستان مسلم لیگ ن کے چیرمین منتخب ہوئے ہیں باقی جماعتوں کے چیرمینوں کو نہیں دیا گیا، کیا ان لوگوں کا حق نہیں ؟ ایسی سیاست کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟
راجن پور ضلع کا دیرنہ مسئلہ ہے پانی کیونکہ ایوب خان نے تونسہ بیراج بناتے وقت راجن پور کو نہری پانی سے محروم کردیا اور راجن پور کے لیے صرف ایک نہر دی کبھی سوچا ہے مسلم لیگ ن کے عہدیداران نے کسان کی حالت کے بارے میں اگر ہمارے علاقے میں نہری نظام بہتر ہوجائے تو پورا ضلع خوشحال ہوجائے آپ موزانہ لگائیں جب کوئی بھی فصل تیار ہوتی ہے تو ہمارے ضلع بھر میں ایک خوشحالی کی لہر دوڑ جاتی ہے کیونکہ ہمارے کسان ہے اس علاقے کی معاشی ترقی کا موجب ہیں اور اگر کسان خوشحال تو پورا ضلع خوشحال ،
کتنے دکھ کی بات ہے کہ ہماری دھرتی کو چیر کر جانے والے دریا ؤں سے ہمیں محروم رکھا جا رہا ہے ہماری دھرتی سے نکالی جانے والی سوئی گیس سے ہمیں محروم رکھا جارہا ہے ہماری دھرتی سے نکلنے والے کاٹن سے کپڑے اپر پنجاب میں تیار ہوتے ہیں ، ہماری دھرتی سونا اگلتی ہے
انشاء اللہ پاکستان پیپلز پارٹی ہی ضلع راجن پور کے عوام کی امنگوں کی ترجمان ہے اور ہمارے منشور میں ایک عام آدمی کی بنیادی مسائل کو حل کرے گی ،

رابطہ نمبر : 03336444089

ہماری خبر پر نوٹس والے اداروں سے گزارش ہے کہ یہ ابتدائی معلومات اور تجزیہ کے طور پر اطلاع فراہم کرنا ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں ، اس پر ایکشن لینے سے پہلے ہمارے قوانین اور پرائیوسی پالیسی کو ضرور پڑھ لیں ،مزید معلومات کے لیےدیئے گئے نمبر پر رابطہ کریں ، شکریہ

اپنا تبصرہ بھیجیں