نادرا اہلکار کی بدتمیزی، سائل نے جوتوں سے مرمت کر ڈالی ،

راجن پور(آواز92) گزشتہ روز سائل اپنی اہلیہ کے ساتھ نادرا سنٹر راجن پور آیا بچوں کے داخلے کا مسئلہ تھا ب فارم بنوانا تھا، لائین میں چار گھنٹے کھڑا رہنے کے بعد پتہ چلا کہ ٹوکن تو بیوی کو ملے گا وہ بھی اندر سے ایگزیکٹو نارمل تو ہوتے نہیں ، دفتر میں داخل ہوا تو سیکورٹی گارڈ نے بدتمیزی کا مظاہرہ کیا اس کے بعد سائل اپنی بیوی کو لیکر ٹوکن اسٹیشن پر گیا اور ٹوکن والے نے فوراً ٹوکن کاٹ دیا اس کے بعد سائل اپنی باری کا انتظار کرنے لگا، فوٹو بنوانے کے لیے گیا تو وہاں خاتون آپریٹر کی جگہ پر لڑکا بیٹھا ہوا تھا سائل نے کہا کہ بھائی آ پکے دفتر میں دو دو خواتین آپریٹر ہیں مہربانی کروان سے میری بیوی کی تصویر بنوا دو، اس نے کہا کہ تمہارے لیے ہم اپنا ڈیوٹی روسٹر تبدیل کریں ، اپناٹوکن واپس دو اور کیش کاؤنٹر سے پیسے لے لو ، سائل کی آواز سن کر انچارج کی کرسی پر بیٹھا نام نہاد انچارج شکیل ضیاء آ گیا اس نے آ تے ہی سائل کی ایک نہیں سنی اور ٹوکن اس کے ہاتھ سے لے لیا اور سائل کی بیوی سے اردو میں سوال کرنے لگا سائل نے کہا مجھے تھوڑی بہت اردو آ تی ہے مہربانی کریں آپ نے جو بھی سوال کرنے ہیں مجھ سے کریں یہ تو ان پڑھ ہے ، اس پر اس نے اپنا لہجہ مزید سخت کرتے ہوئے ان پڑھ ہو یا پڑھ لکھی جواب تو دینے ہونگے، اس پر سائل نے نہ آو دیکھا نہ تاؤ جوتا اتارا اور موصوف کی خوب درگت بنا ڈالی اور ٹوکن ساتھ لیکر بیوی کے ہمراہ دفتر سے باہر یہ کہتے ہوئے نکلا کہ اب اس کا فیصلہ وزیراعلی پنجاب کے سامنے ہوگا،

سائل کوٹلہ نصیر کا رہائشی ہے اسکو مقامی سردار سے پریشرائز کراکے واپس دفتر بلایا گیا اور اس کا فارم مکمل کیا گیا اور اس کو دھمکایا گیا کہ کسی میڈیا والے سے بات نہ کرنا ورنہ تمھارا ب فارم نہیں بنے گا، اسی وجہ سے سائل اور اسکی اہلیہ کا نام اس رپورٹ میں خفیہ رکھا گیا ہے ،

رابطہ نمبر : 03336444089

ہماری خبر پر نوٹس والے اداروں سے گزارش ہے کہ یہ ابتدائی معلومات اور تجزیہ کے طور پر اطلاع فراہم کرنا ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں ، اس پر ایکشن لینے سے پہلے ہمارے قوانین اور پرائیوسی پالیسی کو ضرور پڑھ لیں ،مزید معلومات کے لیےدیئے گئے نمبر پر رابطہ کریں ، شکریہ

اپنا تبصرہ بھیجیں